تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption اصغر خان گذشتہ سال جنوری میں 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے

پانی پر تصویریں بنانے سے شاہکار تخلیق نہیں ہوتے۔ ریت پر قدموں کے نشان چھوڑنے کے لیے پانی کا سہارا ضروری ہے اور بُلبلوں کو دوام دینے کے خواب تنفس کو امتحان میں ڈال سکتے ہیں۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ انصاف کے نام پر انتقام کی فصل بوئی جائے، احتساب من پسند کیا جائے اور ’چیخیں‘ نہ نکلیں۔ کیا یہ فیصلہ اب نہیں ہونا چاہیے کہ یا تو واقعی بلا تفریق احتساب کیا جائے اور انصاف کیا جائے یا پھر ماضی کو فراموش کر کے آگے بڑھا جائے جیسے اصغر خان کیس میں کیا جا رہا ہے۔

ہمارے موجودہ وزیراعظم کی ایک سے زیادہ تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں انھوں نے بار بار اصغر خان کیس پر انصاف کا مطالبہ کیا، مگر یہ کیا؟

جب اصغر خان کیس کے اس حصے پر عملدرآمد کا وہ مرحلہ آیا کہ جب مقتدر اداروں اور افراد کے خلاف کارروائی ہونا تھی تو فائلیں بند کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ بتایا گیا کہ 90 کی دہائی میں بننے والی آئی جے آئی کو آئی ایس آئی کی جانب سے دیے گئے پیسوں کا ریکارڈ ایف آئی اے کے پاس موجود نہیں ہے۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم بھی پڑھیے

’میاں صاحب، اب کیا ہو گا؟‘

چند اور سخت فیصلے؟

چُپ کا موسم

ہائے ہماری مجبوریاں !!!

اب کی بار چال کس کی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption وفاقی حکومت نے جعلی اکاؤنٹ کے الزام میں ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا

خیر یہ بات تو معلوم تھی کہ مقتدر اداروں کے افراد، بھلے وہ باغی ہی کیوں نہ ہوں، کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ تاہم ایف آئی اے ہاتھ اٹھا لے گا اور وہ بھی انصافی حکومت اور انصافی وزیراعظم کی ناک کے نیچے، اس کی بہرحال توقع نہ تھی۔

حیران کُن بات یہ ہے کہ بجائے حکومت اپنی کارکردگی پر توجہ دے، سنگین تر ہوتے معاشی بحران کے حل پر غور کرے، فعال پارلیمان اور موثر جمہوری نظام کی تکمیل کرے، محض اپوزیشن کے خلاف کاروائیوں پر اکتفا کیے ہوئے ہے۔ عدد نہ ہونے کے باوجود سندھ میں حکومت کی تبدیلی اور گورنر راج کی خبریں نامعلوم ایجنڈے کی عکاس ہیں۔

سندھ سے اٹھتی آوازیں بلاشبہ مفاداتی سیاست کا شاخسانہ ہو سکتی ہیں۔ لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی کے روز سندھ کی پوری قیادت کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کے فیصلے کے اعلان نے بڑے بڑے سیاسی جگا دریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ حکومت کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ بلاشبہ حکومتی اقدامات نے بلاول بھٹو کو سندھ کا ’باغی‘ رہنما بنانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ بلاول کا پی ٹی ایم اور ناراض بلوچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی آنے والے دنوں میں کسی قومی تحریک کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters Image caption مریم نواز کو مصلحت کا لبادہ اتارنا ہو گا اور بلاول کو بھی سیاسی بوجھ سے چھٹکارا چاہیے

مصلحت پسند اپوزیشن اپنے مفاد کے لیے ہی سہی مگر چنیدہ احتساب کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کر سکتی ہے۔ احتساب محض سیاست دانوں اور وہ بھی جمہوریت پسند سیاست دانوں کا؟ یہ سوال ضرور اٹھا رہا ہے کہ 40 سال بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے آمروں کا احتساب کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ یہ چنیدہ احتساب اور بڑھتی معاشی بے چینی عوام کو کسی بھی مصنوعی انقلاب یا کم از کم احتجاج پر تیار کر سکتی ہے۔

نئے سال میں بلاول اور مریم نئی قیادت کے طور پر ابھریں گے۔ مریم نواز کو مصلحت کا لبادہ اتارنا ہو گا اور بلاول کو بھی سیاسی بوجھ سے چھٹکارا چاہیے۔ اصل قیادت عوام سے دور ہوئی تو ایسا سیاسی خلا پیدا ہو جائے گا جو مقتدروں کے گلے پڑ سکتا ہے۔ کیا ’اہل اقتدار‘ سنہ 2019 میں کسی سیاسی بھونچال کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ بہر حال سیاست اور معیشت کے اصل فیصلے اگلے چھ ماہ میں ہوں گے جب جناب وزیراعظم کو اہم تعیناتیوں کے فیصلے کرنا ہیں۔ دیکھیے اور انتظار کیجیے!