شادی کا دن ہر جوڑے کے لیے ان کی زندگی کا ایک اہم ترین دن تصور کیا جاتا ہے اور اس دن کی یادوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے لیے لوگ لاکھوں روپے خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں جس کے لیے بہترین فوٹوگرافر اور تصویر کشی کے لیے بہترین مقام کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

اس اعتبار سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کا شہر لاہور کافی اہمیت کا حامل ہے۔

باغوں کا شہر کہلائے جانے والا لاہور تاریخی ورثے سے بھی مالا مال ہے۔ جس کی وجہ سے شادی کی فوٹوگرافی کروانے کے لیے زیادہ تر جوڑے شہر کی تاریخی اور سرکاری عمارتوں یا باغوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شادی کے نام پر سودا

پاکستان میں شادیوں کا بجٹ کتنا ہوتا ہے؟

’چترال میں شادی ایک مذاق بن گیا تھا‘

اگر تاریخی عمارتوں کی بات کی جائے تو سرفہرست مغلیہ دور کا بلند و بلا لاہور کا شاہی قلعہ ہے۔ اس کے علاوہ جوڑے بادشاہی مسجد، قائد اعظم لائبریری، وزیر خان مسجد اور لاہور کے گورنر ہاوس کا بھی انتخاب کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ باغ جناح، قرشی پارک، بوٹینیکل گارڈن، شالامار باغ اور جلو پارک پر بھی شادی کے فوٹو شوٹ کے لیے جوڑوں کی بڑی تعداد جاتی ہے۔

بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے فوٹو گرافر عاطف ریاض نے بتایا کہ ’فوٹو گرافر کے انتخاب کے بعد دلھا دلھن کے لیے سب سے زیادہ مشکل مرحلہ تصویر کشی کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جس کے لیے ہم یا تو خود اپنے گاہک کو مشورہ دے دیتے ہیں یا پھر ان کو جگہ دیکھا دیتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاہک خود ہی بتا دیتا ہے کہ اسے کس مقام پر اپنا فوٹو شوٹ کروانا ہے۔‘

لاہور کے شاہی قلعے میں اپنے نکاح کا فوٹو شوٹ کروانے کے غرض سے آنے والی فاطمہ ندیم نے بتایا کہ ان کا تعلق انگلینڈ سے ہے لیکن وہ اپنی شادی کے لیے پاکستان آئی ہیں۔

وہ چاہتی تھیں کہ ان کے زندگی کے اس اہم دن کی تصویر کشی کسی خوبصورت مقام پر ہو۔ ان کے فوٹو گرافر نے انھیں شاہی قلعے پر فوٹو گرافی کروانے کا مشورہ دیا اور انھیں یہ جگہ پسند آئی ہے۔

قائد اعظم لائبریری پر اپنی شادی کا فوٹو شوٹ کروانے کے لیے آنے والی ردا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’وقت کی کمی کے باعث میں یہاں جلدی میں اپنا فوٹو شوٹ کروانے آئی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس لائبریری کی سفید عمارت کے آگے لال رنگ کے جوڑے میں تصویریں بہت خوبصورت آئیں گی۔‘

حکومت ان جگہوں پر شادی کے فوٹو شوٹ کے کتنے پیسے وصول کرتی ہے

فوٹو گرافر عاطف ریاض کا کہنا تھا کہ’لاہور کے بہت سے تاریخی اور سرکاری مقامات پر آج کل شادی کی فوٹو گرافی کی جا رہی اور حکومت ان جگہوں پر فوٹوگرافی کرنے کے اچھے خاصے پیسے وصول کرتی ہے۔ خفیہ طور پر وہاں فوٹو گرافی کرنے کے لیے تو آپ تھوڑے سے پیسوں میں کسی کو بھی خرید سکتے ہیں۔ عموما گارڈز اور جگہ کے نگہبان چار، پانچ سو، پزار، دو ہزار تک بھی لے لیتے ہیں اور اگر آپ کو زہادہ سہولت چاہیے تو آپ ان کو زیادہ پیسے دے دو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ان مقامات پر 20 ہزار روپے سے لے کر پچاس ہزار اور ایک لاکھ روپے تک بھی وصول کرتی ہے۔

لاہور کے شاہی قلعے کے تعلقات عامہ کے افسر زبیر احمد کے مطابق ہر جوڑے سے شادی کی فوٹو گرافی کے 20 ہزار روپے لیے جاتے ہیں جو والڈ سٹی کے خزانے میں جاتے ہیں، جو شاہی قلعے کی تزئین وآرائش کے کام کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

گورنر ہاوس کے سٹیٹ افسر انور نے بتایا کہ گورنر ہاوس میں تصویریں کھیچوانے کے خواہش مند افراد کو پچاس ہزار روپے کی فیس ادا کرنی ہو گی جو قومی خزانے میں جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی طرح قائد اعظم لائبریری اور بادشاہی مسجد میں فوٹو شوٹ کروانے کے بیس ہزار روپے لیے جاتے ہیں۔ تاہم بادشاہی مسجد کی انتظامیہ نے مسجد میں شادی کی فوٹو گرافی کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

جبکہ لاہور کے زیادہ تر پارکس اور باغ، پارکز اینڈز ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کے زیر انتظام آتے ہیں۔ اپی ایچ اے کی تعلقات عامہ کی افسر نادیہ کے مطابق تمام پارکس اور شہر کے باغوں میں شادی کی فوٹو گرافی کروانے پر محکمہ 25 ہزار روپے وصول کرتا ہے۔

لاہور کے شاہی قلعے پر اپنی شادی کی فوٹو گرافی کے لیے آنے والے عثمان محمد (دلھا) نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس طرح کے تاریخی ورثے والی جگہوں پر حکومت کو فیس نہیں لینی چاہیے تاکہ یہاں جو بھی اپنی یادیں بنانا چاہیے وہ بنا سکے۔‘

سرکاری اجازت کے باوجود بھی فوٹو گرافی میں کئی مشکلات کا سامنا

بیشتر فوٹو گرافرز نے اس بات کا اعتراف کیا کہ زیادہ تر باغوں میں گارڈز تھوڑے سے پیسوں میں فوٹو گرافی کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب کئی فوٹو گرافرز نے شکایت کی سرکاری طریقہ کار اپنانے کے باوجود بھی پی ایچ اے ملازم دوران کام تنگ کرتے ہیں اور ان پر اضافی پیسے مانگنے کا الزام عائد کیا۔

فوٹو گرافر عاطف ریاض کا کہنا تھا کہ ’مثال کے طور پر قائد اعظم لائبریری میں اگر آپ سرکاری اجازت سے جا رہے ہیں تو آپ کو ایک مخصوص قیمت ادا کرنی ہوتی ہے جس کی رسید بھی دی جاتی ہے، جبکہ غیر سرکاری طور پر وہاں کوئی اصول نہیں ہے۔

قائد اعظم لائبریری کا کچھ حصہ پی ایچ اے کے زیر انتظام بھی آتا ہے اور اگر آپ پی ایچ کی جگہ پر ہیں تو وہاں کے گارڈ الگ ہیں اور لائبریری کے الگ۔‘

'اس لیے لائبریری میں سیڑھیوں والی جگہ پر شوٹ کے الگ پیسے دو۔ اگر آپ نے ایک سیڑھی اوپر جانا ہے تو اس کے الگ پیسے دینے پڑتے ہیں۔ وہاں تو یہ تک ہوتا ہے کہ اگر پیچھے یہ والا درخت آ رہا ہے تو اس کے الگ پیسے دینے پڑیں گے اور اگر یہ والی گھاس آ رہی ہے اور وہ کسی کے اور کے زیر انتظام ہے تو اس کے الگ پیسے دو۔ یہ بہت ہی مضائقہ خیز ہے۔‘

پی ایچ اے کی پی آر او نادیہ نے ان شکایات کے حوالے سے بتایا کہ ’ایسی شکایات پر ہمارے ڈی جی نے احکامات جاری کیے ہیں جو شخص بھی ایسی غیر قانونی کاروائی میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

دوسری جانب شاہی قلعے کے تعلقات عامہ کے افسر زبیر احمد کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ سرکاری طور پر پیسے دے کر آنے والے شخص کو کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نا آئے۔ اس لیے ہم ہر جوڑے اور فوٹو گرافر کے ساتھ والڈ سٹی کا ایک ملازم بھیجتے ہیں۔‘

اجازت لینے کا طریقہ کار

ان تمام سرکاری عمارتوں اور مقامات پر اجازت لینے کا طریقہ کار تقریبًا ایک جیسا ہی ہے جس کے لیے جوڑے (دلھا اور دلھن) کو پہلے اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ مخصوص عمارت یا جگہ کس محکمے کے زیر انتظام ہے۔

اس کے بعد اس محکمے سے رابطہ کر کے فیس اور کاغذات سے متعلق رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ جس کے بعد آپ کو مطلوبہ دستاویزات جمع کروانے کے بعد سرکاری طور پر ان مقامات پر شادی کی فوٹو گرافی کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

اس حوالے سے لاہور کے شاہی قلعے کے پی آر او نے کا کہنا ہے کہ ’یہاں شادی کے فوٹو شوٹ کے لیے والڈ سٹی نے مخصوس طریقہ کار بنا رکھا ہے اور اجازت لینے کے لیے شادی کی فوٹو گرافی کے لیے جوڑے کو لاہور فورٹ فنڈ کے نام کا بیس ہزار روپے کا پے آرڈر بنوانا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے علاوہ دلھا دلھن کے قومی شناختی کارڈ کی کاپی چاہیے ہوتی ہے اور شادی کا دعوت نامہ یا پھر نکاح نامہ ہمارے آفس میں جمع کروانا ہوتا ہے۔ ان سب کاغذات کے ساتھ وہ ہماری اتھارٹی کو ایک درخواست لکھتے ہیں جس میں وہ اجازت طلب کرتے ہیں۔‘