اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں کووڈ 19 کے متاثرین کا علاج کرنے والے مسیحاؤں پر کیا گزر رہی ہے؟

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش کا باعث ہے اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے جہاں حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے وہیں اس ان دیکھے دشمن کے سامنے صف اول میں کھڑے ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

بی بی سی نے پاکستان کے ایسے ہی چند ڈاکٹروں سے بات کی ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور جاننے کی کوشش کی کہ ان ڈاکٹروں کی پیشہ وارانہ، ذاتی اور سماجی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

’اگر مریض کو دیکھ کر ڈاکٹر بھاگ جائے تو پھر ڈاکٹر ہونے کا کیا فائدہ‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں قائم آئسولیشن ہسپتال کی سربراہ ڈاکٹر شوبھا لکشمی ان ڈاکٹروں میں سے ہیں جن کی کورونا کے خلاف جنگ ملک میں اس وبا کے پھیلاؤ سے کہیں پہلے شروع ہو گئی تھی۔

تین ماہ سے زیادہ کے عرصے میں اس ’جنگ‘ نے ان کی ذاتی اور پیشہ وارانہ دونوں زندگیوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر لکشمی کا کہنا تھا ’کورونا سے میری لڑائی کا آغاز جنوری کے آخری ہفتے میں ہی شروع ہو گیا تھا جب مجھے میری انتظامیہ نے کہا کہ حکومت نے ہمیں کورونا کے لیے ایک وارڈ قائم کرنے کا کہا ہے۔‘

’پیشہ وارانہ مشکلات کا آغاز تب ہوا جب ہمارے پاس پاکستان کا پہلا مصدقہ مریض فروری کے آخر میں آیا۔ اس کے اہلخانہ اور دوست ہمارے پاس داخل ہوئے تو میری انتظامیہ کے جانب سے مجھے بہت ردعمل دیکھنے کو ملا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہمارا حکومت کے ساتھ صرف ٹیسٹنگ کا معاہدہ ہوا تھا، تم نے مریض رکھ لیا ہے۔'

ڈاکٹر لکشمی نے بتایا کہ ابتدا میں انھیں کم وسائل اور منفی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

دنیا میں کورونا کے مریض کتنے اور کہاں کہاں ہیں؟

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس: مختلف ممالک میں اموات کی شرح مختلف کیوں؟

کورونا وائرس: وینٹیلیٹر کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

'شروع میں کوئی بھی سینیئر ڈاکٹر میرے وارڈ میں آنا پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ وارڈ میں کورونا کے مریض ہیں۔ لوگ مجھ سے اپنی ڈیوٹیاں وہاں لگوانے کی وجہ سے نفرت کرنے لگے تھے۔ لوگ شروع شروع میں وارڈ سے بھاگ جاتے تھے۔

'کم وسائل اور نامصائب حالات اس سب کو اور کٹھن بنا رہے تھے مگر میرے اندر یہ احساس جاگا کہ اگر میں نہیں کروں گی تو کون کرے گا؟'

ڈاکٹر لکشمی کا کہنا تھا کہ انھوں نے جب اپنے والد سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ’اگر مریض کو دیکھ کر ڈاکٹر بھاگ جائے تو پھر ہمارے ڈاکٹر ہونے کا کیا فائدہ، تم کر لو گی، جاؤ تمھیں کچھ نہیں ہو گا اور اگر ہو گیا تو کیا ہو گا، بس تب یہ یقین ہو گیا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لیے چنا ہے اور میں یہ کر لوں گی۔'

ڈاکٹر لکشمی کا کہنا تھا کہ 'پھر میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر دن رات ایک کر دیا، ٹیسٹنگ صلاحیت بڑھائی، مزید مریضوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا۔دن میں 11-12 گھنٹے وارڈز میں کام کیا۔

'مجھے صرف پہلے دن کورونا کے مریضوں کے پاس جاتے خوف آیا تھا لیکن تب سے آج تک مجھے کبھی ڈر نہیں لگا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Shumaila

’ہر آنے والا مریض خود کو کورونا کا متاثرہ سمجھ رہا ہے‘

پنجاب ملک میں کورونا سے سب سے متاثرہ صوبہ ہے۔ اس صوبے کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں کورونا متاثرین کے لیے مختص کردہ جنرل ہسپتال میں بطور میڈیکل سپیشلسٹ خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر فہد(فرضی نام) کا کہنا تھا کہ 'ایک عام انسان کی طرح ہمیں بھی خوف آتا ہے لیکن اگر ہم نہیں دیکھیں گے تو کون دیکھے گا۔'

انھوں نے بتایا کہ اب تک انھوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ فیصل آباد میں تقریباً 1500 ایسے افراد کا معائنہ کیا ہے جن میں سے کچھ مشتبہ اور کچھ مصدقہ مریض تھے۔

ڈاکٹر فہد نے بتایا کہ کام کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے اور ہر آنے والا مریض خود کو کورونا کا متاثرہ سمجھ رہا ہے، کام کا بوجھ زیادہ ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'ملک میں ٹیسٹنگ کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ چند مشتبہ افراد کو بھی ایک ایک ہفتہ ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے مگر ٹیسٹ رزلٹ آنے کے بعد وہ متاثرہ نہیں ہوتے، اس سے بھی صحت کے نظام پر بوجھ پڑ رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Fahad Image caption ڈاکٹر فہد کا کہنا تھا کہ گرم موسم میں کم از کم 12 گھنٹے کی شفٹ کے دوران حفاظتی لباس پہن کر کام کرنا ایک مشکل کام ہے

انھوں نے بتایا کہ 'جہاں مشکلات ہیں وہیں ڈاکٹروں میں جذبہ بھی بہت ہے، ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے ساتھ کوئی اٹینڈنٹ موجود نہیں ہے تو اگر کسی مریض کو کوئی بھی ضرورت ہو تو ڈاکٹر اپنی جیب سے وہ ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔ مثلاً کبھی کوئی کھانے پینے کی فرمائش یا موبائل چارجر ٹوٹ جانے پر نئے چارجر کی فرمائش۔'

حفاظتی لباس پہن کر کام کرنے کے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’گرم موسم میں کم از کم 12 گھنٹے کی شفٹ کے دوران اس کو پہن کر کام کرنا ایک مشکل کام ہے۔‘

ان کے مطابق ذاتی حفاظتی لباس کو پہننے کے عمل کو 'ڈوننگ' اور اتارنے کے عمل کو 'ڈوفنگ' کہا جاتا ہے۔ ’ہسپتال میں ایک نظام بنایا گیا ہے کہ وارڈ اور آئسولیشن کا راؤنڈ لگانے اور تمام مریضوں کا معائنہ کرنے اور اس یقین دہانی کے بعد کہ ان کی حالت ٹھیک ہے ڈیوٹی ڈاکٹر علیحدہ سے مقررہ جگہ پر کھانے پینے یا ٹوائلٹ کے لیے 'ڈوفنگ' کر لیتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

کورونا کے مریضوں کی جان بچاتے ہوئے جان دینے والا پاکستانی ڈاکٹر

چین میں کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والا پاکستانی ڈاکٹر

کیا دیہی پاکستان کورونا سے نمٹ سکتا ہے؟

لاہور کے شالیمار ہسپتال کے ڈاکٹر عبداللہ (فرضی نام) شعبۂ انتہائی نگہداشت میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے میرا ان مریضوں کے ساتھ زیادہ تعلق رہا ہے جو یا تو متاثرہ مریض تھے یا مشتبہ اور وہ ایسے وقت میں ہسپتال آتے ہیں جب ان کی جان بچانے کے لیے انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

’ایسے میں ان کے قریب جانا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں کام کے دوران ایک نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ایسے میں نہ آپ کو مریض کے انجام کا پتا ہے نہ ہی اپنے انجام کا علم ہے۔'

’زندگی کسے پیاری نہیں لیکن فرض اور ذمہ داری اپنی جگہ ہے‘

خیبر پختونخوا میں ’کووڈ کومبیٹ‘ ٹیم کی رکن اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والی ڈاکٹر شمائلہ خان( فرضی نام) کا کہنا تھا کہ 'ظاہر ہے زندگی کسے پیاری نہیں مگر اب ہم اس کو اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھتے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ 'جب شروع میں میرے دیگر ساتھیوں کی اس وارڈ میں ڈیوٹی لگی تو میں تھوڑا گھبرائی تھی کہ میری بھی ڈیوٹی آئے گی لیکن اب مجھے کوئی ڈر نہیں ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے ہمیں مکمل حفاظتی آلات اور لباس مہیا کیے ہوئے ہیں۔ ہسپتال میں چھ سے سات گھنٹے کی ڈیوٹی ہے، چار ٹیمیں مخلتف اوقات میں ڈیوٹی دیتی ہیں اور ڈیوٹی کے بعد گھر جانے کی اجازت نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے تمام ڈاکٹروں کے لیے ہاسٹل کا انتظام کیا گیا ہے جہاں ہمیں الگ کمروں میں ٹھہرایا گیا ہے۔'

کام کے دوران مشکلات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شمائلہ نے بتایا کہ 'میں اپنی شفٹ شروع ہونے سے قبل ہی کھانا کھا لیتی ہوں اور کم پانی پیتی ہوں تاکہ دوران شفٹ بھوک یا ٹوائلٹ جانے کے لیے ذاتی حفاظتی لباس اتارنا نہ پڑے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'گرم موسم میں حفاظتی لباس کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں مگر زیادہ تر ڈاکٹر دوران شفٹ بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں۔'

’کئی ہفتوں سے بیٹی کو گلے نہیں لگا سکی ہوں‘

پیشہ وارانہ زندگی کے ساتھ ساتھ کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ذاتی زندگی اور معمولات پر بھی اس وبا کا گہرا اثر پڑا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی ڈاکٹر شوبھا لکشمی کا کہنا تھا کہ وہ سنگل مدر ہیں اور ان کی 14 سالہ بیٹی سنیہا ان کے ساتھ رہتی ہے تاہم کورونا سے متاثرہ افراد کے وارڈ میں ڈیوٹی کرنے سے وہ اپنی بیٹی سے دور ہو گئی ہیں۔

'کئی ہفتوں سے میں نے اسے گلے نہیں لگایا، اس کا منھ نہیں چوما۔‘

ڈاکٹر لکشمی نے بتایا کہ 'ان کی بیٹی یہ گلہ کرتی ہے کہ گھر آ کر بھی آپ مریضوں کی حالت اور دیگر دفتری امور کے لیے ہر وقت فون پر مصروف رہتی ہیں۔'

ڈاکٹر شوبھا کے مطابق ان کی چند برس قبل اپنے خاوند سے علیحدگی ہوئی تھی اور تب سے انھوں نے اپنی بیٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا مگر اب وہ اس کے تحفظ کے لیے اس سے فاصلہ رکھتی ہیں۔

'شروع میں سنیہا کہتی تھی ماما چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں، آپ کورونا کے مریضوں کے پاس سے آئی ہیں، اب وہ تھوڑا نارمل ہو رہی ہے۔ چند دن پہلے ہم نے مل کر سوپ بھی بنایا تھا۔'

’لوگ پانچ منٹ تک میرے لیے تالیاں بجاتے رہے‘

ڈاکٹر لکشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے مریضوں کے علاج نے انھیں معاشرے میں بھی بہت عزت دی ہے۔

'میں ایک خاموش طبع انسان ہوں، جن فلیٹس میں رہتی ہو کسی کو علم نہیں تھا کہ میں کورونا کے مریضوں کا علاج کر رہی ہوں۔ پھر ایک سہ پہر میرے فلیٹ کی گھنٹی بجی، دروازہ کھولا تو میری بلڈنگ کے فلیٹوں میں مقیم لوگ میرے لیے پانچ منٹ تک تالیاں بجاتے رہے۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سارے عمل کے دوران ان میں وہ خود اعتمادی بھی دوبارہ پیدا ہوئی جو چند ذاتی وجوہات کی باعث ختم ہو چکی تھی۔

ان کا کہنا تھا 'میرے والد، میرے خاندان کے سامنے مجھے بہت عزت ملی ہے۔ بس ایک خواہش ہے کہ بحیثیت ڈاکٹر ایسا کام کروں جب میری بیٹی بڑی اور سمجھدار ہو تو وہ بھی مجھ پر فخر کرے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Shumaila Khan ’بچے یاد آتے ہیں مگر احتیاط لازم ہے‘

فیصل آباد میں کام کرنے والے ڈاکٹر فہد کا بھی کہنا ہے کہ کورونا وارڈ میں کام کے آغاز کے بعد انھوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو اپنی سسرال بھیج دیا ہے جبکہ اپنے والدین سے بھی فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔

'بچوں کو یاد کرتے ہیں مگر احتیاط لازمی ہے۔ فون پر، ویڈیو کال پر بات کر لیتے ہیں۔ والدین سے بھی ہفتے بعد تھوڑی دیر کے لیے ملتا ہوں۔'

ان کا کہنا تھا اس عرصے کے دوران ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹروں کے علاوہ کسی دوست، کسی عزیز سے ملاقات نہیں کی۔ یہاں بھی کبھی ایک ساتھ بیٹھ کر چائے یا کھانا نہیں کھایا، سب الگ الگ ڈبوں میں علیحدہ کھانا کھاتے ہیں۔'

خیبر پختونخوا کی ڈاکٹر شمائلہ کا کہنا ہے کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔ آج کل وہ ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹرز ہاسٹل میں رہ رہی ہیں لیکن ایک ہفتے بعد جب وہ واپس گھر جائیں گی تو والدین سے ملنے کے بجائے خود کو کمرے میں بند کر لیں گی۔

’ایک ہی گھر میں امی، ابو سے ویڈیو کال پر بات کروں گی اور بلاضرورت کمرے سے باہر نہیں آؤں گی، والدین کے تحفظ کے لیے ان سے سماجی فاصلہ اور خود کو علیحدہ کرنا ضروری ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس سب کے باوجود اچھا لگتا ہے کہ ہم کچھ کر رہے ہیں۔ میرے والد کو مجھ پر فخر ہے کہ میں اس مشکل وقت میں حوصلے کے ساتھ عوام اور ملک کے کام آ رہی ہوں۔'

٭ اس خبر میں چند ڈاکٹروں کی درخواست پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں۔